بس یہی فرق ہوتا ہے ایک احمق اور عقلمند لیڈر میں. عقلمند اپنے مال و دولت کو بھی خدا کی امانت سمجھ کر اور یوم حساب پر کامل یقین رکھتے ہوئے خرچ کرتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک منشی اپنے مالک کا چاہے ماہانہ کروڑوں روپیہ اکٹھا کرتا ہے مگر اس میں سے صرف اپنا حق یعنی اپنی تنخواہ رکھ کر باقی مالک کا مال اسے واپس لوٹا دیتا ہے. جبکہ ایک احمق قومی دولت کو بھی اپنے باپ دادا کی وراثت سمجھ کر استعمال کرتا اور عزیز و اقارب پر نچھاور کرتا ہے.یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن حکیم عوام اور خواص میں فرق کو واضح کرتا ہے. یعنی ایک طرف عوام جو اللہ کے دئیے کو اپنا مال سمجھتے ہیں انہیں حکم دیتا ہے اپنے مال میں سے صدقہ، زکوۃ اور خیرات دیتے رہا کرو جبکہ دوسری طرف اسی قرآن میں خواص کو حکم ہے کہ میرے دئیے میں سے اپنی ضرورت کا رکھ لیا کرو اور باقی میرا مجھے واپس لوٹا دیا کرو. چونکہ اللہ کو تو دنیا کے مال و دولت کی کوئی حاجت نہیں لہذا مفسرین اسکی تشریح یہی کرتے ہیں کہ اللہ کے ضرورتمند بندوں کو دینا ہی اللہ کو واپس لوٹانا ہے. اور بلا شبہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم، آل رسول ص ع اور خلفاء راشدین کا طریق بھی یہی تھا کہ وہ ضرورت کا ہی گھر میں رکھتے اور باقی سارا اپنے مالک کو واپس لوٹا دیتے.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
اصل احتساب عوام کریں گے. حمزہ شہباز
ان مکار اور زہنی بیمار کھوتوں کو کون سمجھائے کہ کمزور نہ احتساب /انصاف کر سکتا ہے نہ مانگ سکتا ہے. یہ مہزب دنیا کا مسلمہ اصول ہے. ...
-
بس یہی فرق ہوتا ہے ایک احمق اور عقلمند لیڈر میں. عقلمند اپنے مال و دولت کو بھی خدا کی امانت سمجھ کر اور یوم حساب پر کامل یقین رکھتے ہوئ...
-
کاش آپ لوگ کسی ادارے کے بارے کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ایک نظر سوشل میڈیا پر ہی ڈال لیا کریں. صحافت یکطرفہ رپورٹنگ یا بیانیے کو...
-
کیا کھویا کیا پایا ہے؟ میرا کام فریاد سننا ہے، وہ خود چل کر میرے پاس آئے تھے، دیا کچھ نہیں. چیف جسٹس جناب ثاقب نثار. جناب چیف جسٹس...

No comments:
Post a Comment